786

التماسِ سورہ فاتحہ برائے استاد سبطِ جعفر شہید

ادارہ ترویجِ سوزخوانی

ہو ذکرِ شہؑ تو فضا دردناک کر پہلے

نوائے غم کے گریباں کو چاک کر پہلے

رہے ذرا بھی نہ آلائشِ طرب باقی

سُروں کو سوز کے دریا میں پاک کر پہلے

ظہیر مہدی ضوکلیمی


تعریف

اُوپر جائیں

سوز کے لفظی و لغوی معنی دکھ، درد اور جلن کے ہیں اور سوزخوانی کے معنی پڑھنے سنانے اور دہرانے کے ہیں۔ اس طرح سوزخوانی کے لغوی معنی دکھ درد کا بیان (سنانی) کے ہیں۔ اصطلاحاََ اہلِ بیتؑ کے فضائل و مصائب بالخصوص واقعات و مصائبِ کربلا و شام و کوفہ کو لحن و نظم میں مخصوص و متعین طریقے پر بیان کرنے (سنانے) کو سوزخوانی کہتے ہیں۔ سوزخوانی وہ باقاعدہ فنی و تکنیکی صوتی اسلامی عزائی فن ہے جس کا آغاز تقریبا 300 سال پہلے برصغیر میں ہوا۔ اس کا باقاعدہ آغاز اگرچہ اودھ سے ہوا مگر دہلی، آگرہ، الور، جےپور (راجستھان) حیدرآباد دکن اور یو پی کے دوسرے علاقوں نے اس کے فروغ و ترویج میں نمایاں حصہ لیا۔ بعد میں کچھ تاثرات پنجاب کے بھی مرتب ہوئے۔ سوزخوانی بنیادی طور پراردو صنفِ ادائیگی ہے کہ اسمیں اردو کا معیاری و مستند کلام ہی پیش کیا جاتا ہے تاہم اس میں عربی فارسی کا حمدیہ نعتیہ منقبتی کلام بھی شامل کر لیا جاتا ہے اگرچہ اس کی ترویج میں راجھستان دکن و پنجاب کا بھی کچھ نہ کچھ حصہ ہے مگر بنیادی طور پر یہ یوپی والوں (اردو بولنے والوں) کا فن ہے۔ فنِّ سوزخوانی کی اپنی جداگانہ اصطلاحات اور ادائیگی کے علاوہ نشست و برخواست کے مقررہ و متعینہ اصول و ضوابط و آداب ہیں۔ مثلا ایک خاص طریقے پر تکیہ سامنے رکھ کر بیٹھا جاتا ہے اور تکیہ پر بیاض رکھی جاتی ہے جسے بستہ کہتے ہیں ہمنواؤں یا ساتھیوں کو بازو اور لیڈر یا استاد کو سر یا سوزخواں کہتے ہیں۔ اکار سے سوز خوانی کا آغاز کیا جاتا ہے جسے آس کہا جاتا ہے. اس کے اجزائے کلام میں ہاں قطعہ، رباعی، سوز، سلام، بین اور مرثیہ شامل ہیں اور ان میں ہر ایک کی ادائیگی کا مختلف انداز ہوتا ہے۔ عام گھریلو اور عزاخانوں کی سوزخوانی اگرچہ تقلیدی قسم کی محض اظہار عقیدت اور پرسہ کے لیے ہوتی ہے جن میں زیادہ فنی اہتمام نہیں کیا جاتا، تاہم سوزخوانی کی بندش موضوع و مرتب کرتے وقت کلام کے مزاج و تاثر کو ملحوظ رکھا جاتا ہے، معیاری و مستند کلام صحیح مخارج صحّتِ تلفظ و ادائیگی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ماہرین فن ادائیگی کے وقت، ماحول، موقع و محل، وقت، موسم اور حاضرین مجلس یعنی سامعین سب ہی کو ملحوظ رکھتے ہیں تاہم راگ راگنی اور سروں کا استعمال حسب ضرورت بہت احتیاط اور مہارت سے کیا جاتا ہے اس لیے کہ اصل مقصد کلام و پیغام کا ابلاغ ہے نہ کہ موسیقی و گائیکی کی مہارت کا اظہار۔ موسیقی و گائیکی میں محض آواز و ریاض کافی سمجھے جاتے ہیں لیکن سوزخوانی کے لئے خداداد آواز یعنی خوش الحانی کے ساتھ ریاض اور سوزِ دل بھی درکار ہوتا ہے، اس میں ایک ہی کلام میں انتہائی نچلے اور انتہائی اونچے سر بھی استعمال ہوتے ہیں اور بیک وقت سینہ گلا جبڑا ناک وغیرہ کا بھی بھرپور اور متوازن استعمال ہوتا ہے۔

ذہنی نقشہ

فنِّ سوزخوانی

فنِّ سوزخوانی



لوازمات و امتیازاتِ سوزخوانی

فنِّ سوزخوانی

اصطلاحاتِ سوزخوانی

فنِّ سوزخوانی

اجزائے سوزخوانی

فنِّ سوزخوانی

ادارۂ ترویجِ سوزخوانی

اُوپر جائیں

فنِّ سوزخوانی

فنِّ سوزخوانی


بستہ

حاصل کریں

اُستاد

اُوپر جائیں

فنِّ سوزخوانی

سوزخوانی سماعت فرمائیں

آواز: اُستاد پروفیسر سید سبطِ جعفر زیدی شہید (سننے کے لیے کلام پر کلک کیجیے)

اُوپر جائیں

رابطہ

اُوپر جائیں